منگل 8 ستمبر 2026 - 23:24
جموں و کشمیر میں تنظیم المکاتب کے زیر اہتمام عظیم الشان دینی و تعلیمی کانفرنس

جموں و کشمیر میں تنظیم المکاتب کے زیر اہتمام عظیم الشان دینی و تعلیمی کانفرنس

نئی نسل کی دینی و اخلاقی تربیت وقت کی اہم ضرورت، دینی و عصری تعلیم کے امتزاج، کردار سازی اور خدمتِ انسانیت کے جذبے کو فروغ دینے پر علمائے کرام کا زور

حوزہ/ تنظیم المکاتب کے سیکریٹری جنرل مولانا سید صفی حیدر زیدی نے کہا کہ علم کو اخلاق اور دینی اقدار سے جوڑ کر ہی باشعور معاشرہ تشکیل دیا جاسکتا ہے، والدین و اساتذہ بچوں کی کردار سازی پر خصوصی توجہ دیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بڈگام/ مالموہ، ماگام میں تنظیم المکاتب کے زیر اہتمام ایک روزہ عظیم الشان دینی و تعلیمی کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں وادی کشمیر کے مختلف علاقوں کے علاوہ لکھنؤ اور ملک کی دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام، مذہبی و سماجی شخصیات، دانشوروں، اساتذہ، طلبہ و طالبات، والدین اور معززینِ علاقہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ کانفرنس کا آغاز صبح 10 بجے ہوا، جبکہ تنظیم المکاتب کے جنرل سیکریٹری مولانا سید صفی حیدر زیدی نے صدارت کی۔

مکمل تصاویر دیکھیں:

جموں و کشمیر میں تنظیم المکاتب کے زیر اہتمام عظیم الشان دینی و تعلیمی کانفرنس کا انعقاد

کانفرنس کے دوران زون ماگام کے مختلف مکاتب سے وابستہ طلبہ و طالبات نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کرتے ہوئے مختلف تعلیمی، دینی اور تخلیقی سرگرمیوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ طلبہ نے دینی و اخلاقی موضوعات پر تقاریر پیش کیں، نعتیہ کلام پڑھا اور دیگر پروگراموں میں حصہ لیا، جسے شرکائے محفل نے سراہتے ہوئے بچوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔

جموں و کشمیر میں تنظیم المکاتب کے زیر اہتمام عظیم الشان دینی و تعلیمی کانفرنس

کانفرنس میں سید صبیح الحسین، مولانا سید نقی عسکری، مولانا شوکت مہدی، مولانا بلال علی دار، حسین حامد، نگران سیکریٹری کشمیر، سید اعجاز احمد، زون ماگام سمیت دیگر اہم شخصیات موجود تھیں۔ ملک کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے علمائے کرام اور مذہبی و سماجی شخصیات کی شرکت نے اس اجتماع کو ایک وسیع دینی و تعلیمی کانفرنس کی شکل دے دی۔

دینی و عصری تعلیم کے امتزاج پر زور

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ موجودہ دور میں نئی نسل کو صرف عصری تعلیم تک محدود رکھنا کافی نہیں، بلکہ بچوں کو دینی تعلیم، اخلاقی تربیت، مضبوط کردار اور جدید علوم سے یکساں طور پر آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ذمہ دار، باشعور، باصلاحیت اور باکردار معاشرے کی تشکیل کے لیے تعلیم کے ساتھ تربیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

علمائے کرام نے والدین اور اساتذہ پر زور دیا کہ وہ بچوں کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دیں اور انہیں صرف امتحانات اور روزگار کے حصول تک محدود نہ رکھیں، بلکہ ان کے اندر دیانت داری، حسنِ اخلاق، انسانیت، احترامِ والدین، اساتذہ کا ادب، معاشرتی ذمہ داری اور خدمتِ خلق کا جذبہ بھی پیدا کریں۔

جموں و کشمیر میں تنظیم المکاتب کے زیر اہتمام عظیم الشان دینی و تعلیمی کانفرنس

مقررین نے کہا کہ موجودہ دور میں مختلف ثقافتیں، نظریات اور طرزِ زندگی نئی نسل کو متاثر کر رہے ہیں، اس لیے والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے۔ بچوں کی دینی و اخلاقی بنیاد مضبوط ہو تو وہ بدلتے ہوئے حالات میں اپنے دین، اقدار اور معاشرتی ذمہ داریوں کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔

مولانا سید صفی حیدر زیدی: دین دنیاوی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں

تنظیم المکاتب کے جنرل سیکریٹری مولانا سید صفی حیدر زیدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسان کی کامیابی، خواہ دنیاوی ہو یا اخروی، اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ نظامِ دین پر عمل کرنے میں مضمر ہے۔ یہ تصور درست نہیں کہ دین انسان کو دنیا میں کامیابی حاصل کرنے سے روکتا ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ دین زندگی کے ہر شعبے میں کامیابی کی راہ دکھاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح دینی تعلیم ضروری ہے، اسی طرح عصری تعلیم بھی ناگزیر ہے۔ تنظیم المکاتب کا مقصد ایسا تعلیمی ماحول پیدا کرنا ہے جہاں دینی اور عصری تعلیم کے ساتھ اخلاقی و انسانی اقدار کو بھی فروغ حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ اسی مقصد کے تحت دینی و تعلیمی کانفرنسوں کا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ نئی نسل دین سے وابستہ رہتے ہوئے جدید علوم میں بھی آگے بڑھے۔

جموں و کشمیر میں تنظیم المکاتب کے زیر اہتمام عظیم الشان دینی و تعلیمی کانفرنس

مولانا سید صفی حیدر نے کہا کہ دین صرف نماز، روزہ یا چند عبادات کا نام نہیں بلکہ پوری زندگی گزارنے کا مکمل ضابطۂ حیات ہے، جس کی بنیاد انسانیت، دوسروں کے حقوق کا احترام، باہمی اخوت، محبت اور ضرورت مندوں کی مدد پر قائم ہے۔

انہوں نے کہا کہ دین کے بغیر تعلیم انسان کو ایسی تباہ کن ایجادات کی طرف لے جا سکتی ہے جو انسانیت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں، جبکہ تعلیم کے بغیر دین کی صحیح سمجھ نہ ہونے کی صورت میں انسان تنگ نظری کا شکار ہوسکتا ہے۔ اس لیے دینی اور عصری تعلیم کا متوازن امتزاج ہی ایک باکردار، باشعور اور کامیاب معاشرے کی ضمانت ہے۔

دینی و اخلاقی بنیادیں مضبوط بنانے پر زور

مولانا سید اعجاز حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کے دور میں مختلف ثقافتیں اور نظریات نئی نسل کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس لیے والدین اور اساتذہ کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کی دینی و تعلیمی بنیادوں کو مضبوط کریں اور انہیں صحیح راستے کی رہنمائی فراہم کریں۔

انہوں نے کہا کہ ایسی دینی و تعلیمی کانفرنسوں کے انعقاد سے مختلف علاقوں میں دینی بیداری پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ بچوں اور نوجوانوں میں دین سے وابستگی، شریعت کی سمجھ اور مذہبی شعور بھی فروغ پاتا ہے۔ اس سے نئی نسل کو یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ دین اور شریعت ان سے کن ذمہ داریوں کا تقاضا کرتے ہیں۔

جموں و کشمیر میں تنظیم المکاتب کے زیر اہتمام عظیم الشان دینی و تعلیمی کانفرنس

انہوں نے بتایا کہ ادارہ تحفظ المدارس کے زیر اہتمام کشمیر، کرگل، پونچھ، جموں اور لداخ سمیت مختلف علاقوں میں تعلیمی و دینی کانفرنسوں کا انعقاد کیا جاتا ہے، جن کا بنیادی مقصد معاشرے کے ہر فرد میں دینی شعور، اخلاقی اقدار اور مثبت سماجی رویوں کو فروغ دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر میں تحفظ المدارس کے تحت 400 سے زائد مکاتب قائم ہیں، جہاں مختلف زونز کی سطح پر کانفرنسیں منعقد کی جاتی ہیں۔ زون ماگام کی اس کانفرنس میں تقریباً 1,500 سے 2,000 طلبہ و طالبات شریک ہوئے، جنہیں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ منشیات کے نقصانات، بنیادی تعلیم، کردار سازی، قیادت اور دیگر مثبت صلاحیتوں کے حوالے سے بھی آگاہی فراہم کی گئی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ تنظیم کا مرکزی دفتر لکھنؤ میں واقع ہے، جہاں سے صدر، نائب صدر، جنرل سیکریٹری اور دیگر اعلیٰ عہدیداران کانفرنس میں شرکت کے لیے آئے۔ انہوں نے کہا کہ ان پروگراموں میں نوجوانوں، طلبہ، خواتین اور کمسن بچیوں کی شرکت کا مقصد ان کی جھجک دور کرنا، اعتماد میں اضافہ کرنا اور انہیں اسٹیج پر اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے قابل بنانا ہے۔

باکردار ماہرین کی تیاری وقت کی ضرورت

مقررین نے اس موقع پر کہا کہ معاشرے کو ہر دور میں ڈاکٹرز، انجینئرز، وکلاء، ججز، پروفیسرز اور دیگر شعبوں کے ماہرین کی ضرورت رہی ہے اور مستقبل میں بھی ایسے باصلاحیت افراد کی ضرورت برقرار رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ تنظیم المکاتب کا مقصد صرف پیشہ ور افراد تیار کرنا نہیں بلکہ ایسے باکردار، دیانت دار اور بااخلاق ڈاکٹر، انجینئر، اساتذہ، وکلاء اور ججز تیار کرنا ہے جو اپنے پیشے کو امانت اور خدمتِ خلق کا ذریعہ بنائیں، نہ کہ ذاتی مفاد، رشوت، بدعنوانی یا ناانصافی کا۔

مقررین نے کہا کہ قوم کے نوجوان تعلیم کے ہر میدان میں نمایاں مقام حاصل کریں، تاہم ان کی پہچان صرف ان کا پیشہ نہ ہو بلکہ کردار، دیانت، اخلاق اور دینی وابستگی بھی ان کی شناخت بنے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان اپنی عملی زندگی میں اس قدر اعلیٰ اخلاقی اقدار کا مظاہرہ کریں کہ لوگ ان کی تعلیم و تربیت اور کردار کی گواہی دیں۔

جموں و کشمیر میں تنظیم المکاتب کے زیر اہتمام عظیم الشان دینی و تعلیمی کانفرنس

انہوں نے کہا کہ تنظیم المکاتب کی دینی و تعلیمی کانفرنسوں کا بنیادی مقصد لوگوں کو دینِ اسلام اور شریعت کی تعلیم سے جوڑنا، اتحاد، اخلاق، کردار سازی اور خدمتِ انسانیت کے جذبے کو فروغ دینا ہے، تاکہ معاشرہ عزت، وقار اور مثبت اقدار کی راہ پر گامزن ہو۔

آخر میں مقررین نے ضلعی انتظامیہ اور مختلف محکموں، بالخصوص جموں و کشمیر پولیس، محکمہ بجلی (PDD)، محکمہ صحت عامہ (PHE) اور دیگر متعلقہ اداروں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کے تعاون سے اس نوعیت کی دینی و تعلیمی کانفرنسوں کا کامیاب انعقاد۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha